پیر 27 جولائی 2026 - 12:03
انتظارِ حجت خدا؛ ایک فریاد

حوزہ/ہم نے آپ علیہ السّلام کے انتظار کا حق ادا نہیں کیا۔ اے حجت خدا! ہم دنیا کی رنگینیوں میں اتنے مگن ہو گئے کہ ہم یہ بھی بھول گئے کہ ایک فرزند غریب زہراء سلام اللہ علیہا پردہ غیبت میں رو رہا ہے۔

تحریر: سید وجیہہ حیدر

حوزہ نیوز ایجنسی| ہم نے آپ علیہ السّلام کے انتظار کا حق ادا نہیں کیا۔ اے حجت خدا ہم دنیا کی رنگینیوں میں اتنے مگن ہو گئے کہ ہم یہ بھی بھول گئے کہ ایک فرزند غریب زہراء سلام اللہ علیہا پردہ غیبت میں رو رہا ہے۔ آپ کو تو اس مالک حقیقی پروردگار عالم نے اس ارض پر ہمارے اوپر حجت قرار دیا ہے؛ یعنی آپ تو ہماری جانوں، ہمارے مال اور ہماری اولادوں سے بڑھ کر ہم پر حق رکھتے ہیں۔ یابن الحسن! آپ کے بابرکت وجود کی بدولت سے ہی تو ہم اس ارض پر زندگی بسر کر رہے ہیں، کیونکہ زمین کبھی حجت خدا سے خالی نہیں رہتی۔

مولا نہ ہم وہ عمل بجا لا سکیں کہ آپ کی خوشنودی حاصل ہو، نہ وہ گفتگو کر سکیں کہ جس میں آپ کی شان بیان ہو، نہ اپنی زبانوں کو تند کلامی سے بچا سکیں، نہ خود کو اس منافقیت کے دور سے بچا سکے اور نہ ہم خدا کی اتنی بڑی برکت اور نعمت سے صحیح معنوں میں مستفید ہو سکیں۔

نہ اپنے دل کو پاک کیا، نہ اپنے کردار کو بدلا، نہ آپ کے لشکر میں شامل ہونے کے لیے کوئی کار خیر انجام دیا، نہ ہی حقیقی طور پر ایک منتظر کی طرح آپ کا انتظار کیا، جیسے ایک بچہ اپنی ماں کا کرتا ہے، جیسے روزگار روزی کا کرتا ہے، جیسے امیدوار اپنی لگائی گئی آس کا کرتا ہے تو

میں کیسے خود کو آپ علیہ السّلام کا منتظر کہوں؟

اے مولا! آپ تو گلشنِ زہراء سلام اللہ علیہا کا وہ پھول ہیں کہ جو حق و باطل کو جدا کریں گے اور آپ مظلوموں کی فریاد ہیں۔

مولا نہ ہم اس پھول کی خاطر خود کو مالی بنا پائیں اور نہ اس کے مشن کی حفاظت کی خاطر خود کو معمور کر پائیں۔

آپ کا وجود مبارک تو ہمیشہ اس زمین پر موجود ہے۔ وائے ہو میری بد قسمتی پر کہ میں آپ کی زیارت، آپ کا دیدار اور آپ کے چہرے کو دیکھنے سے قاصر ہوں۔

مولا!

میری آنکھیں پاک نہیں

میرا دل پاک نہیں

میرا عمل پاک نہیں

... پھر بھی " میں کہتا ہوں میں آپ علیہ السّلام کا منتظر ہوں" کیونکہ آپ باپ کی طرح ہمیشہ ہمارے لیے دعا کرتے ہیں۔ آپ ہماری داد و فریاد کو ہمارے رب کی بارگاہ میں پیش کرتے ہیں اور آپ وہ وسیلہ ہیں جیسے ایک صحرا کی تپتی دھوپ میں ایک جام آب کہ جو زندگی بچانے کا کام کرے۔

یہ سوچ کر دل ٹوٹ جاتا ہے کہ میرے پاس وہ آنکھیں نہیں جن سے میں آپ کو دیکھ سکوں، میرے پاس کچھ بھی نہیں۔

مولا اگر آپ ہم سے جدا ہیں تو گویا یہ دل دل نہیں ۔ مولا جیسے آپ ہمارے لیے دعا کرتے ہیں ہم ویسے رب عظیم سے آپ علیہ السّلام کے ظہور کی دعا نہ کر سکیں۔

مولا جیسے آپ کا دل ہمارے لیے بے تاب ہے کہ ہم راہ ہدایت پر چلیں اور تاریکیوں کو چھوڑ دیں کاش ایسے ہمارا دل بھی آپ کے فراغ میں دن رات آنسو بہائے ۔

مولا عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف پروردگار کریم سے دعا کریں کہ وہ ہمیں بھی وہ توفیق پروردگار دے کہ ہماری سانسیں آپ کے ظہور کی دعا کی تسبیح بن جائیں۔

مولا عجل اللہ تعالٰی فرجہ الشریف مجھ میں اتنی توانائی نہیں کہ خود کو گناہوں سے محفوظ رکھ سکوں، آپ علیہ السّلام پروردگار کریم سے ہمارے لیے دعا کریں، کیونکہ آپ علیہ السّلام کی دعا ہماری دعا سے کہیں زیادہ افضل ہے کہ وہ ہمیں اس راہ پر گامزن کرے جہاں ہماری ملاقات ہمارے امام وقت سے ہو جائے ۔

اے یوسف علیہ السلام کو یعقوب علیہ السلام سے ملانے والے پروردگار! ہمیں اپنی حجت، وقت کے امام عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کا دیدار نصیب کر

اے مالک! ان اندھی آنکھوں کو نور یوسف زہراء سلام اللہ علیہا سے صحت یاب کر

ان قلوب اور ان بے قرار دلوں کو نور مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نورانی بنا

ان قلوب کو راحت عطا کر۔

اے مالک! ان جسموں کو حق کی نصرت کے لیے آمادہ ہونے والا بنا

اے پروردگار! اے رب یکتا! ان کانوں کو فرزند زہراء سلام اللہ علیہا کے بیان دلنشین سے وہ قوت عطا کر کہ یہ ہمیشہ حق کو سنے

ان سروں کو وہ مرتبہ عطا کر کہ یہ شہادت کی اس منزل پر پہنچ جائے جہاں اپنے امام عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی بارگاہ میں یہ سر با ہمراہ بدن شرمندگی سے جھکا ہوا نہ ہو، بلکہ حسین ابن علی علیہ السّلام کی طرح راہ حق پر تن سے جدا ہو گیا ہو ۔

اے ہماری جانوں پر ہم سے بھی زیادہ قوت رکھنے والے! ہمیں اس لشکر میں شامل کر کہ جو باطل کو جڑوں سے اکھاڑ دے گا

اے پروردگار عظیم! اس ارض کی حجت اور اپنے ولی امام عصر عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے ظہور میں تعجیل فرما اور ہمیں ان کی دعاؤں میں شامل فرما اور راہ حق نصیب فرما

آمین یا رب العالمین بحق محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وآلہ طیبین الطاہرین

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha